دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Arbaeen-e-Siddique | اربعین صدیقی

40 Farmain-e-Mustafa

book_icon
اربعین صدیقی
            

40 فرامینِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

(1)جبریل میرے پاس آئے ،میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے جنت کا وہ دروازہ دکھایا جس سے میری اُمَّت جنت میں داخل ہوگی۔یہ سن کر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ عرض گزار ہوئے: یارسول اللہ!میری خواہش ہے کہ میں بھی آپ کے ساتھ ہوتا اور وہ جنتی دروازہ دیکھتا۔ ارشاد فرمایا: اَمَااِنَّكَ يَا اَبَا بَكْرٍ اَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ اُمَّتِيْ یعنی اے ابوبکر ! میری اُمَّت میں سے تم جنّت میں داخل ہونے والے پہلے شخص ہو گے۔ ( ابوداؤد ،4/280، حدیث: 4652) شرح:یعنی عنقریب تم اس دروازے کو دیکھو گے اور میری اُمَّت کے تمام افراد سے پہلے اس میں داخل ہوگے۔یہ حدیث شریف اس بات کی دلیل ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اُمّت میں سب سے اَفْضل ہیں ورنہ ساری اُمَّت سے پہلے جنت میں داخل نہ ہوتے۔ ( مرقاۃ المفاتیح ، 10/381، تحت الحدیث :6033)یہ واقعہ شبِ معراج یا کسی اور موقع کا ہے۔( لمعات التنقیح، 9 /602) اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے اوّل اس اُمَّت سے وہ شخص جو داخلِ جنت ہوگا صدیقِ اکبر ہیں۔ ( مطلع القمرین ،ص240) امام محمد بن عبدالباقی زُرقانی مالکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس اُمَّت کے مردوں میں سے سب سے پہلے داخلِ جنت ہوں گے جبکہ خاتونِ جنت حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا عورتوں میں سب سے پہلے ۔ بعض روایات میں بعض دیگر حضرات کے لئے جنت میں پہلے جانے کی جو بِشارت ہے اس سے مراد ان دونوں مقدس ہستیوں کے بعد جنت میں جانا ہے۔اس حدیث شریف سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس اُمَّت کی عزت و تکریم ظاہر کرنے کے لئے ان کی خاطر ایک مخصوص دروازہ رکھا گیا ہے جس سے یہ داخلِ جنت ہوں گے۔ ( زرقانی علی المواہب ،12/387) (2) يَطَّلِعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِّنْ اَهْلِ الْجَنَّةِ یعنی تمہارے پاس (ابھی) ایک جنتی مرد آئے گا۔اتنے میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ وہاں آگئے۔ ( ترمذی ،5/388، حدیث:3714) (3)صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یارسول اللہ ! کیا کوئی ایسا بھی ہے جسے جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے گا؟ارشاد ہوا: نَعَمْ وَاَرْجُوْ اَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ يَا اَبَا بَكْرٍ یعنی ہاں ،اور اے ابوبکر! مجھے امید ہے کہ تم انہی لوگوں میں سے ہوگے۔ ( بخاری ، 2/520، حدیث: 3666) نوٹ: امام بدرالدين محمود بن احمد عینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : رِجَاءُ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم وَاقِعٌ مُحَقَّقٌ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمّید (Expectation) واقع اور تحقیق شدہ ہوتی ہے۔ ( عمدۃ القاری ،11/410) (4)جنت کے پرندے بُختی اونٹوں کی طرح )بڑ ے( ہیں جو جنتی درختوں سے کھاتے پھرتے ہیں۔یہ سن کر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ عرض گزار ہوئے:یا رسول اللہ !یہ پرندے کس قدر نعمتوں والے ہیں۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بارفرمایا: اَكَلَتُهَا اَنْعَمُ مِنْهَا ان پرندوں کو کھانے والے(جنتی)ان سے بھی زیادہ نعمتوں والے ہیں۔اس کے بعد ارشاد فرمایا: وَاِنِّيْ لَاَرْجُوْ اَنْ تَكُونَ مِمَّنْ يَّاْكُلُ مِنْهَا يَا اَبَا بَكْرٍ یعنی اے ابوبکر!میں یہ امید کرتا ہوں کہ تم بھی ان کھانے والوں میں سے ہوگے۔ ( مسند احمد ،21/34،حدیث:13311) نوٹ: اے عاشقانِ رسول! کسی چیز کے مستقبل(Future) میں واقع ہونے کی اُمّید ظاہر کرنے کے لئے عربی زبان میں مختلف الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔مذکورہ دونوں حدیثوں میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے’’ اَرْجُوْ ‘‘ کاکلمہ استعمال فرمایا، جبکہ کئی دفعہ اس مقصد کے لئے ’’ لَعَلَّ ‘‘استعمال ہوتا ہے۔قرآن و حدیث میں مُتَعَدَّد (Numerous) مقامات پر ’’ لَعَلَّ ‘‘کا لفظ آیا ہے۔یہ لفظ اگر کسی عام شخص کے کلام میں آئے تو اس سے اُمّید ، تَوَقُّع (Expectation) کے معنی مراد لئے جائیں گے،لیکن اگر اللہ پاک،اس کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا اولیائے کرام میں سے کسی ہستی کے کلام میں یہ لفظ آئے تو اس کے معنی کیا ہوں گے؟شارحِ بخاری امام بدرالدین عینی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: وَاعْلَمْ اَنَّ كَلِمَةَ ’’ لَعَلَّ ‘‘ مَعْنَاهَا لِلتَّرَجِّيْ اِلَّا اِذَا وَرَدَتْ عَنِ اللهِ اَوْ رَسُوْلِهٖ اَوْ اَوْلِيَائِهٖ فَاِنَّ مَعْنَاهَا التَّحْقِيْقُ یعنی اس بات کو جان لو کہ ’’ لَعَلَّ ‘‘ کا معنی اُمّید ہے لیکن اگر یہ کلمہ اللہ پاک ،اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا اولیائے کرام استعمال فرمائیں تو اس کا معنی تحقیق (یقین، certainty)کا ہوتا ہے۔( عمدۃ القاری ،6/124، تحت الحدیث :1295) (5) اَنْتَ عَتِيقُ اللَّهِ مِنَ النَّارِ یعنی (اے ابوبکر!)تم اللہ پاک کی طرف سے دوزخ سے آزاد شدہ ہو۔( ترمذی ، 5/382، حدیث:3699) شرح:حکیم ُالاُمّت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:’’ عَتِیق ‘‘ کے بہت معنی ہیں: پرانا، افضل جیسے کعبہ کو بیتِ عَتِیق کہتے ہیں،آزاد شدہ،آزاد کرنے والا۔ یہاں ’’ عَتِیق ‘‘ بمعنی آزاد کرنے والا ہے،حضرت صدیق کے غلام بھی دوزخ سے آزاد ہیں۔ تو ہے آزاد سَقَر سے ترے بندے آزاد ہے یہ سالک بھی ترا بندۂ بے زر صِدِّیق ( مراٰۃ المناجیح ،8/356) (6) مَنْ اَرَادَ اَنْ يَّنْظُرَ اِلٰى عَتِيْقٍ مِّنَ النَّارِ فَلْيَنْظُرْ اِلٰى اَبِيْ بَكْرٍ یعنی جسے دوزخ سے آزاد کسی شخص کو دیکھنا ہو تو وہ ابوبکر کو دیکھ لے۔ ( معجم اوسط ، 6/456، حدیث: 9384) (7) اَبُوْ بَكْرٍ عَتِيْقٌ فِي السَّمَاءِ وَعَتِيْقٌ فِي الْاَرْضِ یعنی ابوبکر آسمان میں بھی عَتِیق ہیں اور زمین میں بھی عَتِیق ہیں۔ ( مسندالفردوس ، 1/250، حدیث: 1788) (8) لَا يَنْبَغِي لِقَوْمٍ فِيهِمْ اَبُو بَكْرٍ اَنْ يَّؤُمَّهُمْ غَيْرُهٗ جس قوم میں ابوبکر موجودہوں تو ان کے لئے مناسب نہیں کہ کوئی اور ان کی اِمامت کرے۔ ( ترمذی ، 5/379، حد یث: 3693) شرح:اس حدیث میں دلیل ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ دینی معاملے میں تمام صحابہ سے افضل ہیں اسی لئے خلافت کے معاملے میں بھی آپ کو ہی آگے رکھا گیا۔ شیرِ خدا حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے دین کے معاملے میں آپ کو آگے رکھا تو بھلا ہماری دنیا کے معاملے میں آپ کو پیچھے کون کرسکتا ہے۔( لمعات التنقیح ،9/601،تحت الحديث:6029) (9) مُرُوْا اَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ یعنی ابوبکر کو حکم دو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ ( بخاری ،1/242،حديث:678) نوٹ:سركارِ دوعالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرضِ وفات میں یہ حکم فرمایا۔عرض کی گئی کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نرم دل انسان ہیں،آپ کی جگہ کھڑے ہوکر لوگوں کو نماز نہ پڑھاسکیں گے۔یہ سن کر دوبارہ یہی حکم فرمایا۔دوسری مرتبہ عرض کو دہرایا گیا تو آپ نے زور دے کر یہی حکم فرمایا۔( بخاری ،1/242،حديث:678) امام ابنِ حجر مکی ہیتمی شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیثِ پاک کو مُتَواتِر قرار دیا ہے۔ ( الصواعق المحرقۃ ،ص23) حدیثِ مُتَواتِر : وہ حدیث جس کو (سند کے ہر طبقہ میں )راویوں کی اتنی بڑی تعداد روایت کرے جس کا جھوٹ پر مُتَّفِق ہونا عادۃً مُحال (Impossible)ہو اسے حدیثِ مُتَواتِر کہتے ہیں۔( المقدمۃ فی اصول الحدیث ، ص92) (10)اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (مرضِ وفات میں)حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی اور کے نماز پڑھانے کی آواز سنی تو حُجرۂ مُقَدَّسہ سے مبارک سر باہر نکال کر غضب ناک لہجے میں ارشاد فرمایا: لَا لَا لَا لِيُصَلِّ لِلنَّاسِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ یعنی نہیں، نہیں، نہیں، لوگوں کو نماز ابو قحافہ کے بیٹے(ابوبکر صدیق) پڑھائیں۔ ( ابوداؤد ، 4/284، حدیث:4661) (11) مَا نَفَعَنِي مَالٌ قَطُّ مَا نَفَعَنِي مَالُ اَبِيْ بَكْرٍ یعنی مجھے کسی مال سے اتنا فائدہ نہیں ہوا جو ابو بکر کے مال سے ہوا ہے۔یہ سن کر حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ روپڑے اور عرض گزار ہوئے: هَلْ اَنَا وَمَالِيْ اِلَّا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ یعنی یارسول اللہ!میں اور میرا مال دونوں آپ ہی کے ہیں۔ ( ابن ماجہ ،1/72،حدیث:94) شرح:اس حدیث شریف سے یہ درس ملتا ہے کہ احسان کرنے والے کا شکریہ ادا کرنا اور اس کے لئے دعا کرنا اچھے اخلاق میں سے ہے۔ ( التیسیر ،2/29) سركارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابوبكر صديق رضی اللہ عنہ كے مال کو اس طرح استعمال فرماتے تھے جیسے کوئی شخص اپنے مال کو استعمال کرتا ہے۔ ( فضائل الصحابۃ لاحمد بن حنبل ، ص72، رقم:36) منقول ہے کہ جب حضرت ابوبكر صديق رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو آپ کی مِلْکِیَّت (Property) میں 40ہزار دینارموجود تھے،یہ سارا مال آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خرچ کردیا۔( فیض القدیر ،5/642) کیا پیش کریں آقا کیا چیز ہماری ہے یہ دل بھی تمہار ا ہے یہ جاں بھی تمہاری ہے (12) مَا لِاَحَدٍ عِنْدَنَا يَدٌ اِلَّا وَقَدْ كَافَيْنَاهُ مَا خَلَا اَبَا بَكْرٍ فَاِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا يَدًا يُكَافِيْهِ اللَّهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ یعنی ہم نے ابوبکر کے سوا سب کے حُسنِ سُلوک کا بدلہ دے دیا ہے البتہ ان کی خِدمات کا بدلہ اللہ کریم قیامت کے دن خود عطا فرما ئے گا۔ ( ترمذی ،5/374، حدیث:3681) (13) اِنَّ مِنْ اَمَنِّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ اَبَا بَكْرٍ یعنی بے شک سب لوگوں سے بڑھ کر اپنی جان اورمال کو مجھ پر خرچ کرنے والے ابوبکر ہیں۔ ( بخاری ،2/517،حدیث:3654) شرح: شیخِ مُحَقِّق شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :اس حدیث میں ’’ اَمَنّ ‘‘ مَنّ سے ہے جس کے معنی یہاں عطا ہیں نہ کہ احسان ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کسی کا احسان نہیں ہے بلکہ ہر کسی پر اللہ و رسول کا احسان ہے۔( لمعات التنقیح ،9/592) (14) مسلم انوں کے دوسرے خلیفہ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: رسول ُاللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے(غزوۂ تبوک کے موقع پر ) ایک دن ہم لوگوں کو صَدَقہ کرنے کا حکم دیا،اتفاق سے اس وقت میرے پاس کثیر مال موجود تھا۔ میں نے سوچا کہ اگر کسی دن میں حضرت ابوبکر سے آگے بڑھ سکتا ہوں تو وہ دن آج ہی ہے۔ میں اپنا آدھا مال لے کر بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوگیا۔اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: مَا اَبْقَيْتَ لِاَهْلِكَ یعنی اپنے گھر والوں کے لئے کیا چھوڑا ہے؟میں نے عرض کیا:آدھا مال ان کے لئے چھوڑ آیا ہوں۔(اس کے بعد)حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے پاس موجود تمام مال لے کر بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوگئے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: مَا اَبْقَيْتَ لِاَهْلِكَ یعنی اپنے گھر والوں کے لئے کیا چھوڑ کر آئے ہو؟عاشقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اَبْقَيْتُ لَهُمْ اللَّهَ وَرَسُولَهٗ یعنی ان کے لئے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیا ہوں۔یہ دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ میں کسی معاملے میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ( ابوداؤد ، 2/179، حدیث:1678) شرح:سرکارِ دوعالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضر ت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اپنا تمام مال صدقہ کرنے سے منع اس لئے نہیں فرمایا کیونکہ آپ ان کی اچھی نیت اور ایمانی قوت سے واقف تھے اس لئے ان پر کسی فتنے کا خوف نہیں تھا اور نہ یہ اندیشہ تھا کہ انہیں لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانا پڑے گا،البتہ ایک شخص نے سونا اور دوسرے شخص نے کپڑا پیش کیا تو ان پر فتنے کے خوف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہ فرمایا۔( شرح ابی داؤد للعینی ،6/432، تحت الحدیث :1798) شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا سارا مال حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے آدھے مال سے مقدار (Quantity)میں کم تھا لیکن دَرَجے(Ranking) کے اعتبار سے زیادہ تھا کیونکہ آپ نے اپنا سارا مال بارگاہِ رسالت میں حاضر کردیا اور گھر والوں کے لئے کچھ نہ چھوڑا۔( لمعات التنقیح ، 9/601، تحت الحدیث :6030) پروانے کو چراغ تو بلبل کو پھول بس صدیق کے لئے ہے خدا کا رسول بس (15) جبرائیل میرے پاس آئے اورکہا : اِنَّ اللهَ يَاْمُرُكَ اَنْ تَسْتَشِيْرَ اَبَا بَكْرٍ یعنی اللہ پاک آپ کو ابوبکرسے مشورہ کرنے کا حکم فرماتا ہے۔ (جامع الاحادیث، 1/78، حدیث:374) نوٹ :تابعی بزرگ حضرت سیدنا سعید بن مُسَیّب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مرتبہ بارگاہِ رسالت میں وزیر کی طرح تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام معاملات میں آپ سے مشورہ (Consultation)فرماتے تھے۔ ( مستدرک ،6/8،رقم:4456) (16) عُرِجَ بِيْ اِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَمَا مَرَرْتُ بِسَمَاءٍ اِلَّا وَجَدْتُّ فِيْهَا اِسْمِيْ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ وَاَبُوْ بَكْرٍ الصِّدِّيْقُ مِنْ خَلْفِيْ یعنی مجھے آسمانِ دنیا کی طرف لے جایا گیا تو میں جس آسمان سے بھی گزرا وہاں میرا نام ’’ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ الله ‘‘ اور میرے نام کے پیچھے ’’ ابوبکر الصدیق ‘‘(لکھا ہوا) پایا۔ (مسند ابو یعلی،5/502،حدیث:6576) (17)سفرِ معراج سے واپسی کے موقع پر جبریلِ امین علیہ السلامسے ارشاد فرمایا: اِنَّ قَوْمِيْ لَا يُصَدِّقُوْنِيْ یعنی میری قوم میری تصدیق نہیں کرے گی۔جبرائیل علیہ السلام عرض گزار ہوئے: يُصَدِّقُكَ اَبُوْ بَكْرٍ وَهُوَ الصِّدِّيْقُ یعنی آپ کی تصدیق ابوبکر کریں گے اور وہ صدیق ہیں۔( معجم اوسط ، 5/233،حديث:7173،صواعق محرقہ،ص70) (18) يَا اَبَا بَكْرٍ اِنَّ اللهَ سَمَّاكَ الصِّدِّيْقَ یعنی اے ابوبکر! اللہ پاک نے تمہارا نام ’’ صِدِّیْق ‘‘ رکھا ہے۔( کنزالعمال ،6/254،حدیث:32612،جزء:11) نوٹ :مشہور مُفَسِّر ، حضرت امام ابو عبد الله محمد بن احمد قُرْطُبِی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو’’ صِدِّیْق ‘‘ کہنے پر مسلم انوں کا اتفاق ہے جیسے محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ’’رسول‘‘ کہنے پر اتفاق ہے۔( تفسير قرطبی ،3/189) (19)بے شک اللہ پاک نے مجھے تم لوگوں کی طرف بھیجا تو دیگر لوگوں نے مجھے جُھٹلایا لیکن ابوبکر نے میری تصدیق کی اور انہوں نے اپنی جان ومال کے ذریعے میری مدد کی۔ (اس کے بعد دو مرتبہ فرمایا:) فَهَلْ اَنْتُمْ تَارِكُوْا لِيْ صَاحِبِيْ یعنی کیا تم لوگ میرے دوست کو میرے لئے نہیں چھوڑ سکتے ۔( بخاری ،2/519،حدىث:3661) شرح: امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں: صدیقِ اکبر کے خَصائِص(Specialties) سے اس قدر بَس (یعنی کافی (Enough)ہے )کہ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شانِ گرامی کو تمام شانوں سے الگ کردیا اور انہیں خاص اپنی ذاتِ پاک کے لئے چُن لیا (Select کرلیا) ۔ ( مطلع القمرین ،ص57) شارحِ بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :اس حدیث سے یہ بات ظا ہر ہوئی کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک میں حضرت صدیق اکبر کی کتنی عظمت و محبت تھی،نیز اشارۃً ثابت ہوا کہ حضرت صدیق اکبر تمام صحابہ سے افضل ہیں۔ ( نزہۃ القاری ،4/566) (20) لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِّنْ اُمَّتِيْ خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ اَبَا بَكْرٍ وَلٰكِنْ اَخِيْ وَصَاحِبِيْ یعنی اگر میں اپنی اُمّت میں سے کسی کو خَلِیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا لیکن وہ میرےبھائی اور دوست ہیں۔ ( بخاری ،2/518، حدیث:3656) شرح:سرکارِ دوعالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حضرت ابوبکر کو خَلِیل نہ بنانا اس وجہ سے تھا کیونکہ انسانوں میں سے کسی کو خَلِیل بنانا آپ کے شایانِ شان نہ تھا۔یہ اور اس جیسی دیگر حدیثیں اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ انسانوں میں سے کوئی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خَلِیل نہیں ہے۔’’ وہ میرےبھائی اور دوست ہیں ‘‘سے مراد یہ ہے کہ وہ میرےاسلامی بھائی اور کشادگی و تنگی ،سفر و حَضَر کے ساتھی ہیں۔ ( عمدۃ القاری ،11/392)اس حدیث سے معلوم چلا کہ خلیل کا مرتبہ دوست اور بھائی سے بلند ہوتا ہے۔( فتح الالہ ، 10/557) امام محمد بن عبدالباقی زُرقانی مالکی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں: یعنی اگر میں اپنے رب کے علاوہ کسی اور کو اپنا خلیل بناتا اور اس میں کوئی رکاوٹ نہ ہوتی تو ابوبکر صدیق کو بناتا کیونکہ وہ اس بات کے اہل ہیں ، لیکن میں نے انہیں خلیل نہیں بنایا کیونکہ اللہ پاک کو خلیل بنانے کے بعد کسی اور کو خلیل بنانے کی گنجائش نہیں رہتی۔( شرح زرقانی علی المواہب ، 12/77) (21) اَنْتَ صَاحِبِيْ عَلَى الْحَوْضِ وَصَاحِبِيْ فِي الْغَارِ یعنی (اے ابوبکر!) تم میرے حوضِ کوثر کے اور غار کے ساتھی ہو۔ ( ترمذی ، 5/378، حدیث: 3690) شرح:یعنی دنیا و آخرت میں میرے ساتھی ہو۔غار(Cave)میں سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہونا حضرت سیدنا صدیقِ اکبررضی اللہ عنہ کی ایسی خصوصی شان ہے جس میں کوئی اور آپ کا شریک نہیں ہے۔( لمعات التنقیح ،9/601، تحت الحدیث : 6028) امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:تمام صحابہ شَرَفِ صُحبت سے مُشَرَّف تھے،مگر لفظ’’ صَاحِبِيْ ‘‘ کہ بیسیوں حدیثوں میں آیا خاص اسی جنابِ گَردُوں قِباب (بلند پایہ ہستی) کے لئے ہے کہ جیسی صُحبت (Companionship) انہیں ملی دوسرے کو مُیَسَّر (Available)نہ ہوئی۔سولہ برس کی عُمْر (Age) سے رَفاقتِ حضور اختیار کی،عمر بھر حاضرِ دربار وشریکِ ہر کار(ہر کام میں شریک) و مُو نِسِ لَیل و نَہار(رات دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو راحت پہنچانے والے) رہے۔بعدِ وفات کَنارِ جاناں میں جاپائی(انتقال کے بعد اپنے محبوب کے قریب دفن ہوئے)،روزِ قیامت حضور کے ہاتھ میں ہاتھ مَحشُور ہوں گے(اٹھیں گے)، حوضِ کوثر پر ہم راہِ رِکاب رہیں گے،پھر فِردوسِ اعلیٰ میں رَفاقتِ دائمی(اعلیٰ ترین جنت میں ہمیشہ کا ساتھ) ہے۔ ( مطلع القمرین ،ص180) (22) مَا صَحِبَ النَّبِيِّيْنَ وَالْمُرْسَلِيْنَ اَجْمَعِيْنَ وَلَا صَاحِبُ يٰس اَفْضَلُ مِنْ اَبِيْ بَكْرٍ یعنی نبیوں اور رسولوں کے جس قدر صحابی ہیں اور صاحبِ یٰس،ان میں سے کوئی بھی ابوبکر سے افضل نہیں ہے۔( کنزالعمال ،6/250،حدیث:32561،جزء:11)نوٹ :صاحبِ یٰس سے مراد حضرت سیدنا حبیب نَجَّار رضی اللہ عنہ ہیں جن کا واقعہ اللہ پاک نے سورۂ یٰس شریف میں ذکر فرمایا نیز ان کا جنتی اور مُکَرَّم ہونا بیان کیا گیا۔( مطلع القمرین ، ص195 تسہیلاً ) (23) مَاطَلَعَتْ شَمْسٌ وَلَا غَرَبَتْ عَلٰى اَحَدٍ بَعْدَ النَّبِيِّيْنَ وَالْمُرْسَلِيْنَ اَفْضَلَ مِنْ اَبِيْ بَكْرٍ یعنی نبیوں اور رسولوں کے بعد سورج کسی ایسے شخص پر طلوع اور غروب نہیں ہوا جو ابوبکر سے افضل ہو۔ ( کنزالعمال ،6/254،حدیث:32619،جزء:11) شرح:اس حدیثِ پاک کے تحت امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے فرمان کا خلاصہ کچھ یوں ہے: فصیح و بلیغ لوگوں کا یہ طریقہ ہے کہ جب کسی بات کا مکمل انکار کرنا ہو تو اسے اس طرح کے الفاظ سے بیان کرتے ہیں،مثلاً:سورج کسی ایسی چیز پر طلو ع نہ ہوا،یا طلوع و غروب نہ ہوا،آسمان کے سائے میں ایسا کوئی نہیں ،زمین اس سے خالی ہے،کسی ایسے شخص پر نہ دن چمکا نہ رات تاریک ہوئی ،وغیرہ۔ اس حدیث شریف کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے آج تک نبیوں اور رسولوں کے بعد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے افضل کوئی شخص پیدا نہ ہوا۔ ( مطلع القمرین ، ص194) (24) مَا ظَنُّكَ يَا اَبَا بَكْرٍ بِاِثْنَيْنِ اَللَّهُ ثَالِثُهُمَا یعنی اے ابوبکر!ان دو افراد کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے جن کا تیسرا اللہ پاک ہو۔ ( بخاری ،2/517،حدیث:3653) شرح: (مکہ مکرمہ سے مدینۂ منورہ ہجرت کے دوران)مشرکین نشانِ قدم دیکھتے ہوئے غارِ ثور کے منہ پر پہنچ گئے۔ صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ بارگاہِ رسالت میں عرض گزار ہوئے کہ اگر مشرکین میں سے کوئی اپنے قدموں کے نیچے نظر کرے تو ہمیں دیکھ لے گا۔اس موقع پر رحمتِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا۔( نزہۃ القاری ،4/560) امام بدرالدين محمود بن احمد عینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دوافراد سے مراد اپنی ذاتِ پاک اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے جبکہ اللہ پاک کے ان دو کا تیسرا ہونے کا معنی یہ ہے کہ اللہ پاک اپنی قدرت ، مدد اور اِعانت کے ذریعے ان دونوں کے ساتھ ہے۔ ( عمدۃ القاری ، 11/388، تحت الحدیث :3653) امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث شریف کے تحت فرماتے ہیں: ان تین کا چوتھا نظر آتا نہیں کوئی واللہ کہ صدیق کا ہمتا نہیں کوئی ( مطلع القمرین ،ص57) (25) اَرْحَمُ اُمَّتِي بِاُمَّتِيْ اَبُو بَكْرٍ یعنی میری امت میں سے اُمّت کے حال پر سب سے زیادہ مہربان ابوبکر ہیں۔( ابن ماجہ ،1/102،حدیث:154) (26) اِنَّ اللهَ تَعَالٰی يَكْرَهُ فَوْقَ سَمَائِهٖ اَنْ يَّخْطَاَ اَبُوْ بَكْرٍ الصِّدِّيْقُ فِي الْاَرْضِ یعنی اللہ پاک جوآسمان کامالک ہےاس بات کو ناپسند فرماتا ہےکہ ابو بکر صدیق زمین پرغلطی کریں۔ ( کنزالعمال ، 6/250، حدیث: 32570، جزء:11) (27)جو اپنے کپڑے کو تکبر کی وجہ سے گھسیٹے گا،اللہ پاک قیامت کے دن اس کی طرف ( رحمت کی)نظر نہیں فرمائے گا۔ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ عرض گزار ہوئے:یا رسول اللہ! اگر میں خاص اہتمام نہ کرو ں تو میرے تہبند کا ایک کنارہ لٹک جاتا ہے۔اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لَسْتَ مِمَّنْ يَّصْنَعُهٗ خُيَلَاءَ یعنی تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو تکبر کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں۔( بخاری ،4/45،حدیث:5784) نوٹ:اس حدیث شریف میں سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ایسی خوبی (یعنی تکبر نہ کرنے)کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تعریف فرمائی جو آپ جانتے تھے۔ ( عمدۃ القاری ،15/214) (28) حضرت عائشہ صدیقہرضی اللہ عنہا كا بيان ہے :ایک چاندنی رات میں جب کہ سرکارِ نامدار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری گود میں سر رکھے آرام فرما تھے،میں نے عرض کیا:کیا کسی کی نیکیاں آسمان کے ستاروں کے برابر ہیں؟ارشاد ہوا: نَعَمْ عُمَرُ یعنی ہاں! عمر (کی نیکیاں آسمان کے تاروں کے برابر ہیں)۔ اُمُّ المؤمنین نے دوبارہ عرض کی: فَاَيْنَ حَسَنَاتُ اَبِي بَكْرٍ یعنی (میرے والد)حضرت ابوبکر کی نیکیوں کا کیا حال ہے؟ رحمتِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اِنَّمَا جَمِيْعُ حَسَنَاتِ عُمَرَ كَحَسَنَةٍ وَاحِدَةٍ مِّنْ حَسَنَاتِ اَبِيْ بَكْرٍ یعنی عمر کی تمام نیکیاں ابوبکر کی نیکیوں میں سے ایک نیکی کی مثل ہیں۔ (مشکوٰۃ،2/423، حدیث: 6068) شرح:شيخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:یعنی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی تمام نیکیاں مقدار و تعداد(Quantity) اور کیفیت میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ایک نیکی کی طرح ہیں۔اگر یہ فرض (Suppose)کرلیا جائے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی نیکیاں (تعداد میں )حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نیکیوں سے زیادہ ہیں تو پھر بھی اپنی نیکیوں کی قوت اور عظمت کی وجہ سے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ہی افضل رہیں گے۔( لمعات التنقیح ،9/635) مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:فقیر کے نزدیک اس (ایک نیکی) سے ہجرت کی رات غار ِثور میں حضورِ انور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت مراد ہے۔( مراٰۃ المناجیح ،8/391) شرفِ مِلّت علّامہ عبد الحکیم شرف قادری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جانتے ہیں کہ آسمان کے ستاروں(Stars) کی تعداد کتنی ہے اور اُمّتِ مسلم ہ کے افراد کی نیکیوں کی تعداد کتنی ہے۔(اشعۃ اللمعات مترجم،7/433) (29) بارگاہِ رسالت میں عرض کی گئی:لوگوں میں سے آپ کو زیادہ محبوب کون ہے؟ فرمایا:عائشہ۔دوبارہ عرض کی گئی: مردوں میں سے کون؟ ارشاد ہوا: اَبُوهَا یعنی ان کے والد (ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ )۔ ( بخاری ، 2/519، حدیث:3662) شرح: شارحِ مسلم امام ابو زکریا یحییٰ بن شَرَف نَوَوِیرحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اس حدیث میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی عظمت و شان کا واضح اعلان ہے اور اس میں اہلِ سنت کے اس عقیدے کی دلیل موجود ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تمام صحابۂ کرام علیہم الرضوان سے افضل ہیں۔ ( شرح النووی علی مسلم ،8/153،جزء:15) (30)ایک عورت نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر اپنا معاملہ عرض کیا جس پر اسے دوبارہ حاضر ہونے کا حکم ہوا۔ عورت وِصالِ ظاہری کی طرف اشارہ کرتے ہوئےعرض گزار ہوئی :اگر میں آؤں اور آپ کو نہ پاؤں(تو کیا کروں)؟ارشاد فرمایا: اِنْ لَّمْ تَجِدِيْنِیْ فَاْتِي ْ اَبَا بَكْرٍ یعنی اگرتم مجھےنہ پاؤ تو ابوبکر کے پاس آنا۔ ( بخاری ، 4/480 ، حدیث: 7220) شرح:اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ میرے بعد خلیفہ بلافصل ابوبکر ہوں گے ۔ ( نزہۃ القاری ،4/564) نیز اس میں غیب کی خبر ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ پاک کی عطا سے بتائی۔( شرح النووی علی مسلم ،8/155،جزء:15) (31)مرضِ وفات میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ارشاد فرمایا : اپنے والد ابوبکر اور اپنے بھائی کو میرے پاس بلاؤ تاکہ میں ایک تحریرتیارکردوں۔ مجھے خوف ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا(خلافت کی) تمنا کرے گا اور کہے گا:میں (خلافت کا )زیادہ حقدار ہوں۔ وَيَاْبَى اللَّهُ وَالْمُؤْمِنُونَ اِلَّا اَبَا بَكْرٍ یعنی اللہ پاک اور مؤمنین صرف ابوبکر کو ہی (بطورِ خلیفہ)تسلیم کریں گے۔( مسلم ، ص999،حدیث: 6181) شرح:اس حدیث میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وِصالِ ظاہری کے بعد مُستقبل (Future )میں ہونے والے معاملے کی خبر ہے کہ مسلم ان حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی اور کو خلیفہ بنانے پر راضی نہیں ہوں گے،چنانچہ یہ تمام باتیں اسی طرح واقع ہوئیں۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے بیٹے کو بلانے کا مقصد یہ تھا کہ وہ حکم کے مطابق تحریر تیار کریں۔ ( شرح النووی علی مسلم ،8/155،جزء:15) (32) اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ حاضرین سے روزے، جنازے میں شرکت ،مسکین کو کھانا کھلانے اور مریض کی عیادت سے متعلق سوال کیا کہ آج کس نے یہ اعمال کئے ہیں؟حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہر مرتبہ عرض کرتے: اَنَا یعنی میں(نے یہ عمل کیا ہے)۔اس موقع پر سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَااجْتَمَعْنَ فِي امْرِئٍ اِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ یعنی جس شخص میں یہ تمام اَوصاف جمع ہوں وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا۔ ( مسلم ، ص398، حدیث: 2374) شرح:امام اَبُوالفَضْل قاضی عِیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:یعنی ایسا شخص حساب کتاب اور اپنی غلطیوں(Mistakes) پر کسی سزا کے بغیر جنت میں داخل ہوگا ورنہ صرف ایمان بھی اللہ پاک کے فضل و کرم سے جنت میں داخلے کو لازم کردیتا ہے۔ مزید فرماتے ہیں:(مذکورہ چاروں نیکیوں کاکسی شخص میں)ایک ہی دن جمع ہوجانا اس شخص کی سعادت مندی،اچھے خاتمے اور پھر جنت میں داخلے پر دَلالت کرتا ہے۔ ( اکمال المعلم ،7/391) سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پوچھنے پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہر بار جواب میں عرض کرتے:’’ اَنَا یعنی میں‘‘۔اس کے تحت شیخِ مُحَقِّق ،شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اس سے معلوم ہوا کہ ’’میں‘‘کہنے میں کوئی حرج نہیں۔بعض بزرگانِ دین کا اس لفظ کے استعمال سے منع فرمانا اس صورت میں ہے جبکہ تکبر اور انانِیت و بڑائی کی نیت سے کہا جائے،ورنہ قرآن و حدیث اور آثار میں یہ لفظ بے شمار مرتبہ استعمال ہوا ہے۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ’’ اَنَا یعنی میں‘‘کہنا اور سرکارِ دوعالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس پر انکار نہ فرمانا دلیل کے لئے کافی ہے۔ ( لمعات التنقیح ،4/348، تحت الحدیث :1891) (33) نمازِ فجر ادا کرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا: ایک شخص گائے کو ہانک کر لے جارہا تھا کہ اچانک اس پر سوار ہوگیا اور اسے مارا۔ گائے نے کہا: اِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِهٰذَا اِنَّمَا خُلِقْنَا لِلْحَرْثِ یعنی ہمیں اس(سواری کے)لئے پیدانہیں کیا گیا،ہمیں تو صرف کھیتی باڑی(ہل چلانے) کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ (یہ سن کر)حاضرین نے کہا:سبحان اللہ،گائے نے کلام کیا۔ حضراتِ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اس مجلس میں موجود نہ تھے،اس کے باوجود رحمتِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: فَاِنِّيْ اُوْمِنُ بِهٰذَا اَنَا وَاَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ یعنی اس بات پر میں بھی ایمان لاتا ہوں اور ابوبکر و عمر بھی اس پر ایمان لاتے ہیں۔ ( بخاری ،2/466،حدیث:3471) شرح:یعنی میں اس بات پر ایمان لاتا ہوں کہ واقعی گائے نے کلام کیا تھا،یہ کوئی وہم نہیں ،خیالی بات نہیں اور نہ ہی شیطان کی طرف سے دل میں ڈالی ہوئی بات ہے،یا میں گائے کی کہی ہوئی بات پر ایمان لاتا ہوں کہ گائے کی تخلیق صرف کھیتی باڑی کے لئے ہے۔ سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے ایمان لانے کے ساتھ حضراتِ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو جمع فرمانا ان دونوں حضرات کے ایمان کی قوّت اور کمال کی طرف اشارہ ہے۔ سوال:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے اس بات پر ایمان لانے کی خبر کیسے دے دی حالانکہ ان دونوں حضرات کو اس بات کا علم تک نہیں تھا اور نہ ان کی طرف سے اس بات پر ایمان لانے کا اظہار ہوا؟ جواب:مراد یہ ہے کہ اگر وہ دونوں حضرات اس بات پر مُطَّلِع (Informed) ہوتے (کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات کی خبر دی ہے)تو ضرور اس پر ایمان لاتے ، اس بات کی تصدیق کرتے اوراس میں بالکل تَرَدُّد (Hesitation) نہ کرتے۔ اس حدیث شریف کے الفاظ ’’ وَمَا هُمَا ثَمَّ ‘‘ یعنی جس وقت یہ با ت چیت ہوئی تو یہ دونوں حضرات مجلسِ اقد س میں حاضر نہ تھے،اس میں ان حضرات کی تعریف اور بارگاہِ رسالت میں قَدْر و مَنْزِلَت میں مُبالغہ ہے۔اگر یہ دونوں حضرات اُس مجلس میں حاضر ہوتے تو کوئی کہہ سکتا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِتّفاقی طور پر ان کا نام ذکر فرمادیا،لیکن ان حضرات کی غیر موجودگی کے باوجود ان کے ایمان لانے کی خبر دینا ،بارگاہِ رسالت میں ان کی قدر و منزلت کو زیادہ ظاہر کرتا ہے۔( لمعات التنقیح ،9/626، تحت الحدیث :6056) (34) ابوبکر و عمر نبیوں اور رسولوں کے علاوہ اگلے پچھلے تمام اُدھیڑ عمر جنتی لوگوں کے سردار ہیں۔ لَا تُخْبِرْهُمَا يَا عَلِيُّ یعنی اے علی! تم ان دونوں کو یہ بات مت بتانا۔( ترمذی ، 5 / 376 ، حدیث : 3686) شرح:یعنی مجھ سے پہلے نہ بتانا، تاکہ میرے بتانے سے انہیں زیادہ خوشی حاصل ہو۔ ( فیض القدیر ، 1 / 117 ، تحت الحدیث : 68) امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث شریف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: فرماتے ہیں یہ دونوں ہیں سردارِ دو جہاں اے مُرتضیٰ !عتیق و عمر کو خبر نہ ہو (35)(جنت میں)اعلیٰ درجات والوں کو نچلے درجے والے ایسے دیکھیں گے جیسے تم آسمان کے كنارے میں طلوع ہونے والے ستارے کو دیکھتے ہو۔ وَاِنَّ اَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ مِنْهُمْ وَاَنْعَمَا یعنی ابوبکر و عمر بھی ان ہی(اعلیٰ درجات والوں ) میں سے ہیں اور یہ دونوں بہت اچھے ہیں ۔ ( ترمذی ، 5/372، حدیث: 3678) شرح:بلند درجات والے جنتی دوسرے جنتیوں کو ایسے نظر آئیں گے جیسے زمین والوں کو تارے نظر آتے ہیں، وہ ایک دوسرے کو دکھائیں گے :دیکھو وہ ہیں حضرت صدیق ،وہ ہیں حضرت عمر۔حضرت ابوبکر و عمر(رضی اللہ عنہما) سارے بلند درجے والے جنتیوں سے افضل و اعلیٰ ہوں گے،جب یہ جنت کے نچلے درجوں میں جھانکیں گے تو ان درجوں میں ایسی چاندنی پھیل جائےگی جیسے زمین پر چودھویں رات کے چاند سے پھیل جاتی ہے،ان کی شان ان شاءالله وہاں دیکھیں گے۔( مراٰۃ المناجیح ،/384 بتغیر) (36) اِقْتَدُوْا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي اَبِیْ بَكْرٍ وَعُمَرَ یعنی میرے بعد ابوبکر و عمر کی پیروی کرنا۔ ( ترمذی ،5 /374، حدیث:3682) شرح:حضورِ اكرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان دونوں حضرات کی اِطاعت کا حکم دینے میں ان حضرات کی تعریف پوشیدہ ہے یعنی یہ دونوں اس لائق ہیں کہ جس بات کے کرنے کا حکم فرمائیں یا جس کام سے منع کریں اس میں ان کی اِطاعت کی جائے۔ اس حدیث میں ان حضرات کی اچھی سیرت اور اِخلاص نیز وصالِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد خلیفہ بننے کی طرف بھی اشارہ موجود ہے۔ ( فیض القدیر ،2/72، تحت الحدیث :1318) (37)ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھ کر ارشاد فرمایا: هٰذَانِ السَّمْعُ وَالْبَصَرُ یعنی یہ دونوں کان اور آنکھ کی مثل ہیں۔ ( ترمذی ،5 /378، حدیث: 3691) شرح:امام عبداللہ بن عمر شیرازی شافعی المعروف قاضی بیضاوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:یعنی مسلم انوں میں ان دونوں کا وہی مقام ہے جو جسم کے اعضاء(Body Parts) میں کان اورآنکھ کا،یا پھر دین میں ان دونوں کا وہی مرتبہ ہے جو جسم کے اعضاء میں کان اورآنکھ کا،یا پھر یہ دونوں میرے نزدیک کان اور آنکھ کی طرح عزت کے مقام میں ہیں۔ یہ احتمال بھی ہے کہ ان دونوں حضرات میں حق بات کو سن کر اس پر عمل کرنے نیز اپنی ذات اور آسمان و زمین میں موجود نشانیوں کو دیکھ کر ان میں غور کرنے کی حرص اور شدید جذبے کی وجہ سے رحمتِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں کان اور آنکھ قرار دیا۔ ( تحفۃ الابرار ،3/547) ایک معنی یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ دونوں میرے لئے کان اور آنکھ کی طرح ہیں جن کے ذریعے میں سنتا اور دیکھتا ہوں۔( لمعات التنقیح ،9/632، تحت الحدیث :6064) اَصْدَقُ الصَّادِقِیْں سَیِّدُ الْمُتَّقِیْں چشم و گوشِ وزارت پہ لاکھوں سلام (حدائقِ بخشش،ص312) (38)روزِ قیامت ایک مُنادی(پکارنے والا) یہ ندا کرے گا: لَا يَرْفَعَنَّ اَحَدٌ مِّنْ هٰذِهِ الْاُمَّةِ كِتَابَہٗ قَبْلَ اَبِيْ بَكْرٍ وَعُمَرَ یعنی اس امت میں سے کوئی بھی اپنا نامۂ اعمال ابوبکر و عمر سے پہلے نہ اٹھائے۔ ( جمع الجوامع ،1/244، حدیث: 1757) شرح:اپنا نامۂ اعمال پہلے اٹھانے کی بدولت ان دونوں حضرات کی عظمت و شان قیامت کے دن تمام مخلوق کے سامنے ظاہر ہوجائے گی اور یہ حضرات میدانِ قیامت میں زیادہ عرصے تک انتظار سے بھی محفوظ رہیں گے۔حدیث شریف میں ہے کہ امتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر معاملے میں دیگر امتوں سے آگے ہے ،نامۂ اعمال بھی ان باتوں میں سے ہے ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما انبیائے کرام علیہم السلام کے علاوہ تمام امتوں کے افراد سے پہلے اپنے نامۂ اعمال اٹھائیں گے۔ ( فيض القدیر ،1/548، تحت الحدیث :818) امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں:تاخیرِ حساب نوعِ عذاب (حساب کتاب میں دیر ہوناعذاب کی ایک قِسم )ہے اور وہ بلائے جان کاہ (ایسی سخت مصیبت ہے)جس کے سبب اولین و آخرین(اگلے پچھلے لوگ)تنگ آکر کہیں گے: کاش ! دوزخ میں ڈال دیئے جائیں مگر حساب جلد ہوجائے ،اور بے شک جس قدر حساب میں دیر ہے طبیعت کو اِضْطِراب و خوف و رَجا کا پیچ و تاب بیشتر(خوف و امید کا الجھنا زیادہ) ہےاور اسی قدر دُخولِ جنت کی پروہگی مُؤَخَّر (جنت میں Entry کا اجازت نامہ رُکا ہوا )ہے ۔ابوبکر و عمر کا مرتبہ اللہ کے نزدیک اس حد کو پہنچاکہ انہیں سب سے پیشتر(پہلے) اس مصیبت سے نجات عطا فرمائے گا۔ ( مطلع القمرین ،ص240) (39) اَنَا اَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْاَرْضُ ثُمَّ اَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ یعنی سب سے پہلے میں اپنی قبر سے باہر نکلوں گا، اس کے بعد ابو بکر اور پھر عمر۔ ( ترمذی ،5 /388، حدیث:3712) شرح:سرکارِ دوعالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد حضراتِ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے اپنی قبروں سے نکلنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں حضرات حجرۂ مقدسہ میں قربِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں آرام فرماہیں۔( لمعات التنقیح ،9/،602، تحت الحدیث :6032) اس حدیث شریف میں شیخین کریمین (ابوبکر و عمر)رضی اللہ عنہما کی اللہ پاک کی بارگاہ میں عظمت و شان کا بیان ہے۔(التنویر،4/257، تحت الحدیث :2676 ) (40) ہر نبی کے دو وزیر آسمان والوں میں سے اور دو وزیر زمین والوں میں سے ہوتے ہیں۔ فَاَمَّا وَزِيرَايَ مِنْ اَهْلِ السَّمَاءِ فَجِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ وَاَمَّا وَزِيرَايَ مِنْ اَهْلِ الْاَرْضِ فَاَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ یعنی آسمان والوں میں سے میرے وزیر جبرئیل و میکائیل جبکہ زمین والوں میں سے ابوبکر و عمر ہیں۔( ترمذی ، 5/382، حدیث: 3700) شرح:شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:وزیر کا لفظ’’ وِزْرٌ ‘‘سے بنا ہے جس کا معنی بوجھ ہے،وزیر کو وزیر اس لئے کہتے ہیں کیونکہ وہ بادشاہ کا بوجھ اٹھاتا اور اپنی رائے کے ذریعے اس کی مدد کرتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب کوئی اہم معاملہ درپیش ہوتا تو آپ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے مشورہ فرماتے تھے جیسے بادشاہ اپنے وزیروں سے مشورہ کرتا ہے۔( لمعات التنقیح ،9/632، تحت الحدیث :6065) امام ابنِ حجر مکی ہیتمی شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جس طرح حضراتِ ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما انسانوں میں سے امتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سردار ہیں یونہی حضراتِ جبریل و میکائیل علیہما السلام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتی فرشتوں کے سردار ہیں۔ (فتاویٰ حدیثیہ،ص286) راقم الحروف اپنی اس ادنیٰ تالیف کو محدثِ اعظم ہند ، علّامہ سیّد احمد مُحَدِّث کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ کے اس شعر پر ختم کرتا ہے: مرتبہ حضرتِ صدیق کا ہے یہ سَیِّد ہر فضیلت کے وہ جامِع ہیں نبوت کے سوا (فرش پہ عرش،ص11) اللہ کریم ’’ اَرْبَعِینِ صِدِّیقی ‘‘ کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور اسے مُؤَلِّف کے لئے مغفرت کا سبب بنائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن